ہفتہ, جون 10, 2023
الرئيسيةتازہ ترینکشمیر کونسل کے مالی و انتظامی اختیارات کو ممکنہ حد تک محدود...

کشمیر کونسل کے مالی و انتظامی اختیارات کو ممکنہ حد تک محدود کیا جانا چاہئیے ۔ کونسل کے ممبران کی تعداد بڑھا کر گلگت و بلتستان سری نگر ، جموں لداخ کو بھی نمائندگی دی جائے۔سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر ، سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہاہے کہ کشمیر کونسل کے مالی و انتظامی اختیارات کو ممکنہ حد تک محدود کیا جانا چاہئیے ۔ کونسل کے ممبران کی تعداد بڑھا کر گلگت و بلتستان سری نگر ، جموں لداخ کو بھی نمائندگی دی جائے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی اور سی پی ڈی آر(CPDR) کی سفارشات کونسل اصلاحات کی معقول بنیاد بن سکتی ہیں۔ کشمیر کونسل کے رویے اور بد انتظامی ، بے ضابطگیوں سے کشمیری عوام کوبے شمار جائز شکایات ہیں جن کا بلاتاخیر ازالہ کیا جائے۔ ایکٹ 74 میں ترامیم ناگزیر ہیں۔پاکستان کو اقوام متحدہ کی جانب سے کشمیر پر ملنے والے اختیارات کو کوئی حکومت محدود یا کم نہیں کر سکتی۔ پاکستان ریاست کے آزاد اور مقبوضہ تمام حصوں میں تسلیم شدہ بین الاقوامی فریق ہے۔پاکستان کو ریاست کے معاملات سے لاتعلق نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے حاصل فرائض کو نبھانے کے لیے کسی نہ کسی معقول آئینی ذرائع کا حق عالمی برادری نے دے رکھا ہے جسے کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کونسل پر ہونے والی بحث پر حکومت پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ پاکستان میں 18 ویں ترمیم نے ملکی وحدت اور مرکزیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے یہاں مجاہد منزل میں عیادت کرنے والوں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صدر ، وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید، سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر،وزیر صحت ڈاکٹر نجیب خان، سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور، سابق سپیکر چوہدری انوار الحق، حریت رہنماء سید یوسف نسیم،سابق وزیر عبدالسلام بٹ و دیگر سیاسی راہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ کشمیر کونسل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لینا نہایت اہم ہے۔18 ویں ترمیم نے پاکستان کے چاروں صوبوں کو چار ممالک میں بدلنے کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔ صوبائی خود مختاری کے نام پر صوبائی چپقلیش کے دروازے کھول دیئے گئے ۔ مرکز کی قیمت پر صوبائی اختیارات کے نعرے کو ہوا دے کر پاکستان کو عدم استحکام کے راستے پر ڈال دیا گیا ۔ہمیں اس تجربہ سے بھی سبق حاصل کرنا چاہئے۔ ایسا کوئی اقدام جس سے داخلی و عالمی سطح پر حکومت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں کسی صورت کشمیر کے مفاد میں نہیں۔ شکایات کے ازالے اصلاح و احوال اور آئینی ادارہ کے وجود کی اہمیت کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایکٹ 74 میں ترمیم کے لیے پہلے بھی کئی بار سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی جسکی سربراہی چوہدری مطلوب انقلابی کر رہے تھے نے سفارشات مرتب کیں جس پر تمام نمائندوں کا اتفاق تھا۔ اور اسی طرح جرمن سفارتخانے کے تعاون سے ایک تھینک ٹینک CPDR جس میں جسٹس(ر) عبدالمجید ملک، جسٹس(ر) منظور گیلانی،جسٹس (ر) نواز خان،جسٹس شریف حسین بخاری، سردار ذوالفقار عباسی، چوہدری لطیف اکبر، عبدالرشید عباسی، بشارت احمد شیخ، ارشاد محمود و دیگر ماہرین شامل تھے۔ انھوں نے ایکٹ 74 میں ترامیم کے لیے متوازن رپورٹ تیار کی تھی ۔ دونوں رپورٹس مجوزہ ترامیم میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں ان کی روشنی میں ترامیم کی جائیں۔ سردار عتیق نے کہا کہ سابق چیف جسٹس آزادکشمیر محمد اعظم خان نے بھی کشمیر کونسل کے حوالے سے بہت اہم اور فکر انگیز امور کی نشاندہی کی ہے ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ خرابیوں کی اصلاح اور آئینی بحران پیدا کرنے کا فرق محسوس کیا جائے۔ کشمیر کونسل کو ختم کرنے کا ایک مطلب وزارت امور کشمیر کو بحال کرنا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مقالات ذات صلة

الأكثر شهرة

احدث التعليقات