منگل, مارچ 28, 2023
الرئيسيةتازہ ترینکرپشن کیس،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی وجہ سے ختم ہونے والے...

کرپشن کیس،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی وجہ سے ختم ہونے والے نیب کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا

سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں نیب ترامیم کی وجہ سے ختم ہونے والے نیب کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کرپشن کیس میں ملزم کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم کے بعد کون کون سے مقدمات متعلقہ فورم پر بھیجے گئے؟ریکارڈ پیش کریں۔
نیب نے عدالت میں بتایا کہ کوئٹہ کا کرپشن کیس نیب دائرہ اختیار سے نکل گیا اور درخواست غیر موثر ہو گئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ نیب ترامیم کی وجہ سے کوئی بری نہیں ہو رہا بلکہ کیسز منتقل ہو رہے ہیں،نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہیں،ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب ان مقدمات کیساتھ کیا کررہا ہے جو ترامیم کی وجہ سے احتساب عدالتوں سے واپس آ رہے؟ نیب نے کہا کہ احتساب عدالتوں سے واپس آنے والے مقدمات کیلئے نظرثانی کمیٹی قائم ہے،جو کیسز متعلقہ فورم بھیج رہی۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے قرار دیا کہ پچھلے چھ ماہ کا ریکارڈ دیں کہ کون کون سے نیب مقدمات دوسرے فورم پر بھیجے گئے۔ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی وجہ سے ختم ہونے والے نیب کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دئیے کہ عمران خان پارلیمنٹ کی بحث کا حصہ بننا چاہتے ہیں نہ ہی اس کے فیصلوں کو مانتے ہیں،ایک شخص کے فیصلوں کی وجہ سے پورا سسٹم منجمد ہو رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ عمران خان کی درخواست میں ٹھوس حقائق نہیں تھے،آئے روز ٹھوس حقائق سامنے آرہے ہیں کہ ترامیم کے بعد مقدمات واپس ہورہے ہیں،اب تک 386 کیسز واپس ہوچکے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ کیا واپس ہونے والے کیسز کسی اور فورم پر نہیں جا سکتے؟ سپریم کورٹ ایسے شخص کا کیس کیوں سن رہی ہے جو پارلیمنٹ سے باہر ہے؟

مقالات ذات صلة

الأكثر شهرة

احدث التعليقات