ہفتہ, جون 10, 2023
الرئيسيةتازہ ترینتحریر :‌الیاس کشمیری

تحریر :‌الیاس کشمیری

طلبا سیاست کیوں ضروری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر۔۔۔الیاس کشمیری
گزشتہ روز باغ کالج میں طلبا تنظیموں کے درمیان ھونے والے تصادم کے بعد سوشل میڈیا پر کثرت سے یہ موقف سامنے آیا کہ تعلیمی ادارٶں میں سیاست کی وجہ سے ایسے تصادم ھوتے ھیں۔یہ موقف قطعی غلط موقف ھے اور بہت سطحی انداز میں حالات اور واقعات کا تجزیہ کر کہ ایسا غلط موقف اپنایا جاتا ھے۔حقیقت تو یہ ھے کہ تعلیمی ادارٶں سے آج طلبا سیاست عملأ ختم ھو چکی ھے۔اسی وجہ سے تعلیمی ادارٶں میں طلبا تنظیموں کی کوٸی مثبت سرگرمی نظر نہیں آتی۔طلبا تنظیموں کی جانب سے اپنے منشور اور نظریات کا پرچار طلبا میں کہیں نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے نوجوان طلبا میں کوٸی تاریخی اور نظریاتی مباحثہ موجود نہیں ھے۔طلبا سیاست میں طلبا تنظیمیں اپنے نظریات کو فروغ دینے کے لیے نوجوان طلبا میں نظریاتی اور سیاسی تربیت کے لیے مختلف سر گرمیاں جاری رکھتی تھیں اور اپنی نظریاتی حرجمانی کو ثابت کرنے کے لیے طلبا تنظیموں کی قیادت کو مطالعہ کرنا پڑھتا تھا سیکھنا پڑھتا تھا۔علم کی بھٹی سے گزر کر کندن بنتا تھا ایک سیاسی اور نظریاتی ورکر اور پھر اپنے کیڈر کی تربیت کے لیے سٹڈی سرکلز اور تربیتی پروگرامات تنظیمی سطح پر کرنا ضرورت عین بن جاتے تھے۔سیاسی او نظریاتی مقابلہ بازی کے لیے طلبا کے درمیان مختلف مباحثے۔تحریری و تقریری مقابلے اور سیمینارز منعقد کیے جاتے تھے۔جس سے طلبا کی تخلیقی صلاحیتیں اجاگر ھوتی تھیں۔ایک مکمل سازش کے تحت طلبا یونین پر پابندی عاہد کی گٸی اور طلبا یونین پر پابندی کا جواز مہیا کرنے کے لیے داہیں بازٶ کی طلبا تنظیموں بالخصوص جمعیت کو مسلح کر کے تعلیمی اداروں میں مار دھاڑ کے لیے استعمال کیا گیا ریاستی پشت پناٸی کے ساتھ بیرونی گروٶں کو مسلح کر کے تعلیمی ادارٶں میں گھسایا گیا تا کہ طلبا سیاست کو بدنام اور طلبا کے لیے قابلِ نفرت بنایا جا سکے۔اور آج جو لوگ کہتے ھیں کہ تعلیمی ادارٶں میں طلبا سیاست نہیں ھونی چاہیے یہ وہ ہی ریاست کا بیانیہ بیان کر رہے ھیں جو طلبا یونین پر پابندی عاہد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور آج بھی حکمران طبقات کا یہ ہی پروپیگنڈہ ھے۔آج تعلیمی ادارٶں سے طلبا سیاست عملأ ختم ھو چکی ھے جس کی واضح مثال گزشتہ دنوں مسٹ یونیورسٹی کے ایک طالبِ علم کی تا دم مرگ بھوک ہڑتال کے اعلان کے دوران چار دن تک تمام طلبا تنظیموں کی مکمل خاموشی سے ملتی ھے۔نوجوان طالبِ علم سرگرمی کے بغیر نہیں راہ سکتے انھیں کوٸی نہ کوٸی سر گرمی چاہیے ھوتی ھے یہی وجہ ھے کہ آج نوجوان طالبِ علم طلبا تنظیموں کے کردار نہ ھونے کی وجہ سے خود ساختہ پریشر گروپس بنا بیٹھے ھیں۔کہیں کوٸی قلر گروپ کے نام سے ھے تو کہیں پر باکسر گروپ کی لکھاٸی دیوارٶں پر ملتی ھے۔اور کہیں 22 گروپ تو کہیں فاہیٹر 777 کے نام سے پریشر گروپ پروان چڑھ رہے ھیں۔ان پریشر گروپوں کی سرگرمیوں کا جاہزہ لیں تو یہ چاکنگ کرتے ھیں جن پتھرٶں اور دیوارٶں پر طلبا تنظیموں کے نظریاتی تاریخی اور انقلابی نعرۓ ھوتے تھے ان دیوارٶں پر یہ پریشر گروپس قباہلی بنیادٶں پر ایک دوسرے کو ختم کرنے کی تحریریں اور نعرۓ لکھ رہے ھیں۔طلبا سیاست میں جہاں کہیں سیاسی پروگرام یا تنظیمی داہرہ لگاتے ھوۓ جھگڑا ھو جاتا تھا آج ان پریشر گروپوں کے طلبا میں لڑکیوں پر جھگڑے ھو رہے ھیں۔ایک دوسرۓ پر حرجمانی قاہم کرنے کے لیے جھگڑۓ ھو رہے ھیں۔اور ستم ظریفی یہ ھیکہ پریشر گروپ کے لڑکے جب سیاسی طلبا تنظیم کے بھی ممبر ھوں تو وہ چھوٹے پریشر گروپ کے جھگڑا جب تعلیمی ادارۓ تک پہنچتا ھے تو طلبا تنظیم اس میں گھسیٹ لی جاتی ھے یہ آج طلبا تنظیموں کا المیہ ھے۔این ایس ایف اور پی ایس ایف کے موجودہ جھگڑۓ کی وجوھات کا مجھے علم نہیں ھے ۔یہاں جو بات بیان کر رہا ھوں یہ موجودہ باغ کے طلبا اور نوجوانوں کے حاوی رجحان کی بات کر رہا ھوں۔اس ساری صورت حال میں ضرورت اس امر کی ھے کے تمام طلبا تنظیمیں اور یوتھ کی تنظیمیں مل بیٹھ کر ان پریشر گروپوں کا سدِباب کریں ان نوجوانوں کے جذبات کو نظریے میں ڈھالیں تعلیمی ادارٶں میں مثبت سیاسی سرگرمیوں نظریاتی مباحث سیمینارز اور تقرری مقابلوں کا آغاز کیا جاۓ بصورت دیگر یہ جذباتی نوجوان آنے والے وقتوں میں مذہبی انتہا پسند قوتوں کے ہتھے چڑھ کر نام نہاد جہاد کا اندھن بن جاہیں گے اور اس جہاد کے نام پر ھم پہلے ہی ایک پوری نسل قربان کر چکے ھیں۔اب مزید اس کے متعمل نہیں ھو سکتے۔آنے والے وقتوں میں نوجوان طلبا کو منفی سرگرمیوں سے روک کر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تمام طلبا اور یوتھ کی تنظیموں کی ذمہ داری ھے جسے ھمیں پورا کرنا ھو گا کیوں کہ آج کا طالبِ علم مستقبل کا باکسر ۔قلر۔ٹاہیگر یا گھوڑا نہیں بننا چاہیے بلکہ ایک اچھا مہذب انسان دانشور ڈاکٹر وکیل اور پیشہ ور انقلابی بننا چاہیے۔اس کے لیے ھمیں اجتماعی طور پر ریاست اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کے بیانیے سے باہر نکل کر حقاہق کی بنیاد پر چیزٶں کو دیکھنے سمجھنے سوچنے تجزیہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ھے۔

مقالات ذات صلة

الأكثر شهرة

احدث التعليقات